Saturday, May 6, 2017

THE DEEPEST CRAVING OF HUMAN NATURE IS NEED TO BE APPRECIATED

THE DEEPEST CRAVING OF HUMAN NATURE IS NEED TO BE APPRECIATED

شاباشی

ہم جس معاشر ے میں رہتے ہیں اس میں شائد سب کچھ ہے لیکن شاباشی نہیں ہے ۔ اگر ہم پچھلی زندگی پر نظر دوڑائیں ہمیں نہ ہونے کے برابر ایسے لوگ ملیں گے جنہوں نے ہماری سچی تعریف کی ۔ نوکری ہو ، پڑھائی کے ادوارہوں ،تعلیمی ادوار ہوں ، ازدواجی زندگی ہو، گھر کی زندگی ہو ، غرض کوئی بھی جگہ ہو آٹے میں نمک کے برابر لو گ ایسے ملتے ہیں جو شاباشی دیتے ہیں،اگر اس کی سماجی وجہ تلاش کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ جو ہمار ا پنجاب ہے یہ شکریے سے محروم ہے یہ شائد اس لیے بھی ہے کہ پنجابی میں شکریہ کا لفظ ہی نہیں ہے ۔ اگر بندے کو آکسیجن نہ ملے وہ چند منٹ زندہ ر ہ سکے گا ، اگر پانی نہ ملے تو وہ دو تین دن گزارے گا، اگر کھانا نہ ملے تو وہ چند دن زندہ رہ سکے گا جس طرح یہ سب چیزیں انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت ضروری ہیں اسی طرح تعریف کا یا شاباشی کا ملنا بہت ضروری ہے ۔ جس کی تعریف نہیں ہوتی یا اس کو شاباشی نہیں ملتی وہ ظاہری طور پر تو زندہ ہوتا ہے لیکن وہ اندر سے مر جاتا ہے پھر وہ زندہ لاش کی طرح ہوتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میری کوئی وقعت نہیں ہے ، میری کوئی ویلیو نہیں ہے ، مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، اس کو گمان گزرنے لگ پڑتا ہے کہ جس طرح میر ے دنیا میں آنے سے کوئی فرق نہیں پڑا اسی طرح جانے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔
شاباشی سے توانائی ملتی ہے۔ جس طرح ایک بندہ اپنا پروفائل بناتا ہے اور اس میں اپنی قابلیت اور تجربہ لکھتا ہے اسی طرح اس کے اندر کی بھی ایک پروفائل ہوتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں نے میرے متعلق یہ کہا ، فلاں نے مجھے اچھا سمجھا ، فلاں میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے۔ لوگوں کا اچھا گمان رکھنا بندے کی عزت نفس کو اونچا کرتا ہے اور جس کی عزت نفس کا لیول جتنا زیادہ ہوتا ہے اتنی ہی اس کی پرفارمنس اچھی ہوتی ہے ۔ وہ لوگ جنہوں نے کہیں پر بہت عرصہ کام کیا ان پر ایک تحقیق ہوئی انہوں نے جاننے کی کوشش کی کہ آخر کیا وجوہات ہیں کہ کئی لوگ مرنے کے قریب ہونے کے باوجود بھی اپنے کام پر جاتے ہیں ، جب تحقیق کا رزلٹ نکلا تو پتا چلا اس کی پہلی وجہ تنخواہ نہیں تھی بلکہ عزت تھی ۔ تنخواہ تو کم یا زیادہ ہو جاتی ہے لیکن کام میں جان ڈالنے کےلیے ، اس میں روح ڈالنے کےلیے ، اس کو مزیدار بنانے کے لیے موٹیویشن بہت ضروری ہے اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اچھا بھلا بندہ ڈیڈ ہو تا ہے۔

لوگ بہت خوبصور ت ہوتے ہیں لیکن کوئی ان کی خوبصورتی کی تعریف نہیں کرتا ۔ ہم لوگ بہت ظالم ہو چکے ہیں ہم نے ہر چیز کو کاروبار بنا لیا ہے ہم نے اپنی تعریفوں کو بھی کاروبا ر بنا لیا ہے ہم صرف اس کی تعریف کرتےہیں جس سے کام ہوتا ہے ، نوکری پیشہ لوگ اپنے باس کی تعریفیں کر رہے ہوتےہیں حالانکہ یہ ساری تعریفیں مجبوری کی تعریفیں ہوتی ہیں طارق بلوچ صحرائی کہتے ہیں غلام قوم بہت ظالم ہوتی ہے وہ پانی کا پیالہ بنائے تو وہ اسے بھی مانگنے والا کاسہ بنا لیتی ہے کیو نکہ اس کے ہاتھوں میں بنتا ہی کاسہ ہے اسی طرح بعض لوگ تعریف کریں بھی تو وہ نہیں کر پاتے ۔ سچی تعریف وہ ہے جس میں آپ کو کوئی غرض نہ ہو آپ کو پتا ہو کہ جو میں تعریف کر رہاہوں اس میں میرا کوئی لالچ نہیں ہے صرف ایک ہی مقصد ہے کہ میں دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف کروں ۔ہمیں تعریف کا ٹرینڈ بنانا چاہیے۔

No comments:

Post a Comment

زیادہ ذہین ہونے کی آٹھ نشانیاں

پہلی نشانی ہے بہت زیادہ سوچنا۔ جو انسان بہت زیادہ سوچ بچار کرتا ہے اور خلا میں گھورتا رہتا ہے وہ پاگل اور بے حد ذہین ہوتا ہے۔ آئن سٹائن...