Sunday, April 30, 2017

انسانیت

انسانیت 

اللہ نے انسان کو انسانیت عطا کی ہے اور اللہ بندے کو اس بات پر آزماتا ہے کہ جو چیز میں نے بندے کو دی وہ اس نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے یا اٹھا کے پھینک دی. مطلب انسان نے رب کی دی ہوئی چیز کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے یا نہیں اور یہی آزمائش ہے بندے کی رب کی طرف سے. جب تک انسان انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوۓ لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے,  معاشرے میں اپنا مقام بناتا ہے اور اپنا کردار ادا کرتے ہوۓ اپنےاچھا انسان ہونے کی ایک مخصوص پہچان بنا لیتا ہے اور اور اسی شناخت کے ساتھ وہ اپنی پوری زندگی گزارتا ہے تب وہ ایک کامیاب انسان کہلاتا ہے.  اور جب انسانیت کے مقام سے نیچے گر جاتا ہے تب ناکام و نامراد ہوتا ہے چاہے اس کے پاس کتنی بڑی پوزیشن اور عہدہ ہی کیوں نہ ہو, چاہے ان گنت مال و دولت کا مالک ہی کیوں نہ ہو اگر اچھا انسان نہیں تو یہ سب بیکار چیزیں ہیں. آخرت میں ان چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں.  پوری کائنات کا مرکز ہی انسانیت ہے. انسان, انسانوں کے کام آۓ. دوسروں کو تکلیف نہ پہنچاۓ. بلکہ لوگوں کی تکلیفیں دور کرے.  ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرے. ایک دوسرے کا خیال رکھے. ایک دوسرے کی مدد کرے. ہاتھ اور زبان سے کسی کو دکھ نہ دے. بیماری میں ایک دوسرے کی عیادت کرے.  لوگوں کے ساتھ پیار, محبت, خوش اخلاقی, ہمدردی,صلح جوئی, خندہ پیشانی. درگزر اور معافی اور کینہ اور بغض سے پاک دل, خلوص نیت, بھروسہ, سچائی, دینتداری. امانت اور حسن سلوک سے پیش آۓ اور یہی اعمال ہی انسانیت کی معراج ہیں. یہی چیزیں انسان کو انسانیت سے ملاتی ہیں اور معاشرے میں اچھا انسان ہونے کا ثبوت ہیں.  جن لوگوں کے اندر یہ چیزیں موجود ہیں وہ ہی حقیقت میں انسان کہلانے کے لائق اور حقدار ہیں. جو ان پر عمل پیرا نہیں ان کا انسانیت کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں اور آخرت میں ناکامی اور مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا. اللہ پاک ہم سب کو اچھا انسان بننے کی تو فیق عطا فرماۓ. آمین...!!

No comments:

Post a Comment

زیادہ ذہین ہونے کی آٹھ نشانیاں

پہلی نشانی ہے بہت زیادہ سوچنا۔ جو انسان بہت زیادہ سوچ بچار کرتا ہے اور خلا میں گھورتا رہتا ہے وہ پاگل اور بے حد ذہین ہوتا ہے۔ آئن سٹائن...