Friday, October 21, 2016

بشیر احمد اونٹ والا, ارشد خان چاۓ والا اور قسمت کا کھیل


قارئین! ارشد خان چاۓ والا کی شہرت کی پورے ملک میں دھوم دیکھتے ہوۓ مجھے صدر ایوب کے دور حکومت کا ایک بشیر احمد نامی کیمل ڈرائیور کا ایک واقعہ یاد آ گیا کہ جب قسمت کی دیوی انسان پر مہربان ہوتی ہے تو انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے.  یہاں میں میڈیا کے کسی مثبت یا منفی کردار کا ذکر نہیں کروں گا بلکہ قسمت کے چکر ویو کے حوالے سے صدر ایوب کے زمانے کا یہ واقع تحریر کروں گا جو کہ ارشد خان چاۓ والے کے واقع سے بالکل ملتا جلتا ہے. 
صدر ایوب کے دور حکومت میں US Vice President Lyndon B Johnson پاکستان کے دورے پر آیا.  حکومت کے استقبالیہ وفد کے ساتھ پاکستانی عوام کا ایک بڑا ہجوم Vice President کے استقبال کے لیے جمع تھا. اس استقبالیہ ہجوم میں بشیر احمد جو کہ ایک کیمل ڈرائیور تھا وہ بھی موجود تھا اور یہ شخص دور سے صدر کے استقبال کے لیے والہانہ انداز میں ہاتھ ہلا رہا تھا. Vice President LBJ جب جہاز کی سیڑھیاں اتر رہا تھا تو قدرتی طور پر اس کی نظر بشیر احمد کے اوپر ٹھہر گئی جواپنے اونٹ پر بیٹھا  بڑے ہی پر تپاک اور والہانہ انداز سے سے اس کے استقبال کے لیے ہاتھ ہلا رہا تھا.  Lyndon B Johnson اس کے استقبالیہ انداز سے بہت متاثر ہوا اور اس کے پاس چلا گیا اور LBJ نے بشیر احمد سے ہاتھ ملایا تو بشیر احمد نے LBJ سے ان الفاظ میں بات کی
"سلام صاحب! خوشی ہوئی آپ سے مل کر"  
جواب میں LBJ نے یہ کہا 
"Helo,  I am LBJ from USA and I want to be your friend"
 اس کے ساتھ ہی LBJ نے اپنے کوٹ کی جیب سے پارکر پن نکالا اور تحفے کے طور پر بشیر احمد کے ہاتھ میں تھماتے ہوۓ کہا
"We are friend now and friends must meet again.  So I am inviting you to USA as my guest? Please accept! "
دس دن کے بعد امریکی سفارت خانے کے دو افراد اور پریزیڈنٹ آف پاکستان سیکٹریٹ کے دو آفیشل افراد بشیر احمد کی رہائشگاہ لیاری کراچی پہنچ گئے.  امریکی ویزہ اور پاسپورٹ اس کے حوالے کیا اور ساتھ ہی حکومت پاکستان کی طرف سے اس کو تین عدد شیروانی, ایک سفید شلوار قمیض اور ایک جناح کیپ دی گئ اور امریکہ کے صدر کے لیے کچھ قیمتی تحائف بھی دیے جو کہ جلال دین اینڈ سنز صدر کراچی اور رحمن ہیٹ والا نیر پیراڈائز سینما سے خریدے گئے تھے. یہ سارا سامان بشیر احمد کے حوالے کر دیا گیا. 
ایک ہفتہ بعد یہ پاکستانی کیمل ڈرائیور کراچی سے Pan American Clipper Jet Boing 707 فلا ئٹ پر نیویارک کے لیے روانہ ہوا اور نیویارک ایرپورٹ پر USA Vice President نے بذات خود اس کا پرجوش استقبال کیا. بشیر احمد کی بیوی بھی اس کے ساتھ تھی. امریکہ میں قیام کے دوران اس کو Kansas City Washington DC لے جایا گیا. وہاں سے  Lincoln Memorial,  Senate Floor  اور President Kennedy Office لے جایا گیا اور مختلف مقامات کی سیر کرائی گئ. واپسی پر اس کو بے شمار تحائف دیے گئے جن میں ایک Mack Truck اور اس کے بچے کے لیے American Bicycle دی گئی اور ساتھ ہی معاشی حالت بہتر کرنے اور اچھا بزنس کرنے کے لیے ایک بڑی رقم دی گئی.  قیام کے اختتام پر اس کیمل ڈرائیور کے لیے جو سب سے بڑا انتظام کیا گیا وہ یہ تھا کہ واپس پاکستان جانے کی بجاۓ اس کو مکہ مکرمہ (سعودی عرب) کے جہاز پر بٹھایا گیا بشیر احمد کو جب پتہ چلا کہ وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب جا رہا ہے تو امریکی صدر کے اس برتاؤ اور حسن سلوک سے بہت متاثر ہوا اور آنکھوں سے خوشی کے آنسو آ گئے. عمرہ ادا کرنے کے بعد بشیر احمد پاکستان پہنچا تو اسے پتہ چلا کہ پاکستان میں اس کی شہرت کے چرچے ہو چکے ہیں اور بے تحاشہ عوام اس کے استقبال کے ایر پورٹ پر موجود تھی.  اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگا کہ اے اللہ!  تو ہی ہے جس نے میری قسمت میں یہ شہرت, دولت, عزت اور عمرہ کی سعادت لکھ دی ورنہ میں تو ایک غریب گنوار اور ناچیز سا انسان ہوں. 
آج میں جب یہ دیکھ رہا ہوں کہ ارشد خان چاۓ والا جس کے ساتھ بھی قسمت نے بشیر احمد کی طرح کا ہی کھیل کھیلا.  میڈیا کا کردار اپنی جگہ کہ ارشد خان چاۓ والے کو پرموٹ کرنے کے پیچھے کیا ایجنڈا ہے کیا پلاننگ ہے اوراس کو کیا کسی خاص مقصد کے لیے مشہور کیا گیا.  یہ بھی ہو سکتا ہے پانامہ لیکس ایشو سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پہلے بچوں کے اغوا کا ڈرامہ چلتا رہا پھر پاک بھارت جنگ والا ڈرامہ شروع ہو گیا. اور اب اس چاۓ والے کا سیکنڈل شروع ہو گیا. اور اس کے بعد پتہ نہیں کونسی ڈرامے کی نئی قسط سٹارٹ ہو جاۓ گی. مگر ان سب باتوں سے ہٹ کر اگر یہ دیکھا جاۓ کہ ارشد خان کی شہرت اس طرح ابھری کہ میڈیا کی ساری ایجینساں اس کے آگے پیچھے گھوم رہی ہیں بڑی بڑی کمپنیاں اس کو جاب اور پیسہ آفر کر رہی ہیں.  اور یہ سب کچھ صرف اس کے ساتھ ہی اس لیے ہوا کہ یہ سب کچھ اللہ نے اس کی قسمت میں لکھا تب ہی تو وہ دنیا اور میڈیا کی نظروں میں آیا. اس کا فیس بک پیج بنایا گیا تو ایک ھی دن میں پچیس ہزار سے اوپر لائکس مل گۓ. جس چیز میں انسان کا اپنا کوئی کارنامہ نہ ہو اور اتنا کچھ مل جاۓ تو یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب اللہ کی طرف سے قسمت میں لکھا ہوتا ہے.  اگر نہ لکھا ہوتا تو ہو سکتا ہے یہ میڈیا اور پبلک کی نظروں میں ہی نہ آتا اور ایک عام آدمی کی طرح ہی اپنی پوری زندگی گزار دیتا.  قسمت اور مقدر انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا. اور کہتے ہیں نا کہ "دینے والا جب بھی دیتا,  دیتا چھپر پھاڑ کے". ارشد خان کی سٹوری میں اس کا اپنا کوئی کمال نہیں ہے اور بشیر احمد کی سٹوری میں بھی اس کا اپنا کوئی کمال نہیں.  چاۓ والے کی آنکھیں لوگوں کو پسند آ گئی اور بشیر احمد کا استقبالیہ ہاتھ ہلانے والا انداز امریکی صدر کو بھا گیا اور ان دونوں کی قسمت جاگ اٹھی. اور یہ سب اللہ نے ان کے نصیب میں لکھا تھا.  میری دعا ہے اللہ اس ملک کا نصیب اچھا کرے اس ملک کی عوام کی قسمت بدلے اور ہمارے ملک کے حکمرانوں کو ہدایت نصیب کرے اور اس ملک کی قسمت بدلنے اور ملک کی سر بلندی کے لیے ان حکمرانوں کو اچھا کردار ادا کرنے کی توفیق دے اور اللہ ملک پاکستان امن و سلامتی کا گہورا بنا دے... آمین

Written By:
Mudassir Mujtaba 



                          
                           
                            
                             






 



No comments:

Post a Comment

زیادہ ذہین ہونے کی آٹھ نشانیاں

پہلی نشانی ہے بہت زیادہ سوچنا۔ جو انسان بہت زیادہ سوچ بچار کرتا ہے اور خلا میں گھورتا رہتا ہے وہ پاگل اور بے حد ذہین ہوتا ہے۔ آئن سٹائن...