یہ بات تو طے ہے کی میڈیا ایک پاور فل ادارہ ہے اور جب چاہے اور جیسے چاہے کسی کو بھی راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا سکتا ہے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ میڈیا کو اپنی اس طاقت کا استعمال کس طرح کرنا چاہیے اور اس کی سمت کیا ہونی چاہیے. جیسا کہ آج کل ایک چاۓ والے لڑکے کی سوشل میڈیا پر دھوم مچی ہوئی ہے. ایک اچھی شکل و صورت کی بنیاد پر کسی شخص کو اتنا پرموٹ کر دینا کہاں کی تک بنتی ہے. پاکستان میں کتنے ہی ایسے نوجوان موجود ہیں جو شکل و صورت کے لحاظ سے بہت ہی حسین ہیں لیکن ان کی پبلسٹی کیوں نہیں کی جاتی ہے. ہونا تو یہ چاہیے کہ میڈیا ایسے لوگوں کو پروموٹ کرے جو معاشرے میں اور ملک کی خدمت میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہوں چاہے ان کی شکل کیسی بھی ہو. اب جس چاۓ والے کو میڈیا اتنا پروموٹ کر رہا ہے وہ یہ شہرت حاصل کرنے کے بعد کیا کرے گا. زیادہ سے زیادہ وہ ڈراموں اور فلموں یا ماڈلنگ کا کام شروع کر دے گا اور شوبز کی دنیا میں لڑکیوں سے رومانس کرے گا اور ہم ٹی وی پر بیٹھ کر اس کو دیکھیں گے مگر میرا سوال یہ ہے میڈیا کو اس لڑکے کو مشہور کرنے کے بعد ملک اور قوم کو کیا فائدہ ہو گا. کیا میڈیا عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہم نئی نسل کو فلموں ڈراموں اور ماڈلنگ پر لگا دیں. بارڈر پر جب ایک فوجی جوان ملک اور قوم کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے تو میڈیا اس ایک ایک جوان کو چاۓ والے کی طرح ہیرو بنا کر پیش کیوں نہیں کرتا اسلیے کہ اگلی نسل کو یہ پیغام نہ ملے کہ وہبھی اپنے ملک اور قوم کی خاطر اپنی جان قربان کریں.
صرف چند دن اس چاۓ والے کی تصویریں نشر ہونے کے بعد اب یہ حال ہے کی ایک ان پڑھ گنوار کے چاہنے والوں کی قطار لگی ہوئی ہے اور پورے ملک بلکہ انڈیا میں بھی اس کا موازنہ وزیراعظم مودی کے ساتھ کیا جا رہا ہے جو کہ ایک چاۓ بیچنے والا ہی تھا. اب کیا پاکستانی قوم کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ہمارے ملک میں بھی یہ چاۓ بیچنے والا ادشد خان اب پاکستان کا بھی وزیراعظم بن سکتا ہے اور اس لیے اس کو اتنی شہرت دی جا رہی ہے. اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ میڈیا پر شہرت پانے والے اس لڑکے کے ہوٹل پر پچاسوں لڑکیاں اس کو دیکھنے آ رہی ہیں اور اس کے ساتھ اپنی سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جا رہی ہیں. لڑکیاں اس کو شادی کی آفر کر رہی ہیں. ماڈلنگ کمپنیاں اس کو جاب آفر کر رہی ہیں اور مختلف نجی چینل اس کو انٹرویو کے لیے دعوت دے رہے ہیں. مجھے اس منتک کی سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر اس نے ایسا کونسا کارنامہ کیا ہے کونسا ایسا معرکہ سر انجام دیا ہے جو اس وقت سارا میڈیا اس کو ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے اور عوام بے وقوفوں کی طرح اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے. اور میرے لیے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے مائع ناذ سینئر صحافی حسن نثار اور جاوید چوہدری جیسے لوگ بھی اس کو مشہور کرنے میں بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں اور فیس بک اور ٹویٹر پر اس کی پبلسٹی کر رہے ہیں. میرا ان سے یہ سوال ہے کہ آخر ان لوگوں کو ایسا کیا نظر آیا جو اس کو پروموٹ کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا پڑا اور پورے ملک میں ایسا اور کوئی قابل نظر شخص نظر نہیں آیا جو ملک اور قوم کی خاطر کچھ کر رہا ہو اس کی پبلسٹی کرتے. میں اس چاۓ والے کی ترقی کے خلاف نہیں ہوں میرا مقصد صرف یہ باور کرانا کہ میڈیا کو ایسے لوگوں کو پروموٹ کرنا چاہیے. اور ایسے لوگوں کو تلاش کرنا چاہیے جو قابل ہوں حقدار ہوں اور ٹیلنٹ رکھتے ہوں مگر ان کے حالات اور وسائل ان کو سپورٹ نہ کرتے ہوں. میڈیا کے اس کردار سے کیا قوم کو یہ سبق دیا جا رھا ہے کہ ترقی اور شہرت پانے کے لیے تعلیم اور قابلیت کی بجاۓ چاۓ والا اور آنکھوں کا نیلا ہونا ضروری ہے. نیلی آنکھوں کا ہونا کوئی اتنا معیوب بھی نہیں ہے کسی کی بھی ہوسکتی ہیں کسی عجیب و غریب مخلوق سے اس کا کوئی تعلق بھی نہیں ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ ہمارا میڈیا کس طرف جا رہا ہے. کیا میڈیا کا یہی معیار اور کسوٹی یے لوگوں کو آگے لانے اور پرموٹ کرنے کا؟. میں بھی ایک میڈیا کا ایک سٹوڈنٹ ہوں مگر میڈیا کے اس رول کی حمایت نہیں کروں گا جب میڈیا کی توجہ غلط جانب جا رہی ہو گی.
-:Written by
Mudassir Mujtaba

No comments:
Post a Comment