انڈیا کے جنوب مغرب میں واقع مالابار کے لوگوں میں یہ با ت مشہور ہے کہ مالابار کے ایک بادشاہ چکراوتی فارمس نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ا س نے سوچاکہ ضرور زمین پر کچھ ایسا ہوا ہے کہ جس کے نتیجے میں یہ واقعہ رونما ہوا۔ چنانچہ اس نے اس واقعے کی تحقیق کے لیے اپنے کارندے دوڑائے تو اسے خبر ملی کہ یہ معجزہ مکہ میں کسی نبی کے ہاتھوں رونما ہوا ہے۔اس نبی کی آمد کی پیشین گوئی عرب میں پہلے سے ہی پائی جاتی تھی۔چنانچہ اس نے نبی ﷺ
نے نبی ﷺ سے ملاقات کا پروگرام بنایا اوراپنے بیٹے کو اپنا قائم مقام بنا کر عرب کی طرف سفر پر روانہ ہوا۔وہاں اس نے نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضری دی اور مشرف بااسلام ہوا۔ نبی کریم ﷺ کی ہدایت کے مطابق جب وہ واپسی سفر پر گامزن ہوا تو یمن کے ظفر ساحل پر اس نے وفات پائی۔یمن میں اب بھی اس کا مقبرہ موجود ہے۔جس کو ”ہندوستانی راجہ کا مقبرہ“کہا جاتاہے اور لوگ اس کودیکھنے کے لیے وہاں کا سفر بھی کرتے ہیں۔اسی معجزے کے رونما ہونے کی وجہ سے اورراجہ کے مسلمان ہونے کے سبب مالابار کے لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔اس طرح انڈیا میں سب سے پہلے اسی علاقے کے لوگ مسلمان ہوئے۔بعد ازاں انہوں نے عربوں کے ساتھ اپنی تجارت کو بڑھایا۔نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل عرب کے لوگ اسی علاقے کے ساحلوں سے گزر کر تجارت کی غرض سے چین جاتے تھے۔ یہ تمام واقعہ اور مزید تفصیلات لندن میں واقع”انڈین آفس لائبیریری“کے پرانے مخطوطوں میں ملتاہے۔

No comments:
Post a Comment